30 دسمبر کا دن امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک غمناک مگر! عزت و فخر سے بھرپور دن ہے۔ یہی وہ دن جب عالمِ اسلام کے بہادر سپاہی، غیرت مند لیڈر، اور عراقی قوم کے عظیم صدر، صدام حسین رحمہ اللّٰہ علیہ کو ظالمانہ انداز میں عیدالاضحیٰ جیسے بابرکت دن پر پھانسی دی گئی۔ یہ کوئی معمولی سزا نہیں تھی بلکہ! اسلامی حمیت، مزاحمت، خودداری اور سامراج دشمنی کی پاداش میں دی جانے والی سزا تھی، جس نے صدام حسین رحمہ اللّٰہ علیہ کو صرف عراق کا نہیں بلکہ! پوری امتِ مسلمہ کا ہیرو بنا دیا۔*صدام حسین نہ جُھکا، نہ بِکا، نہ معافی مانگی، نہ نظریہ چھوڑا اس کی آخری تکبیر، لبوں پر کلمہ طیبہ، اور استقامت نے دنیا کو بتا دیا کہ اسلامی غیرت پر مر مٹنے والے شہید ہوتے ہیں،
آج بھی پوری دنیا صدام حسین کو بہادری دلیری اور غیرت کا استعارہ سمجھتے ہیں، امتِ مسلمہ اُسے جمہوریت، خودمختاری اور مزاحمت کا شہید کہتی ہے، اس کے کلمے پر جان دینے والے آج بھی صدام کو امت کا سپاہی مانتے ہیں۔
رہتی دنیا تک صدام حسین رحمہ اللّٰہ علیہ کا نام زندہ رہے گا۔ کیوں کہ وہ حق پر تھا، ظلم کے خلاف تھا، امت کے










