آر سی ڈی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے سابق صدر سید جاوید اقبال نے پاکستان، ایران اور ترکی کی حکومت پر زور دیا ہے کہ علاقائی تعاون برائے ترقی ( آرسی ڈی ) کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے بنگلہ دیشن، چین، روس، سعودی عرب، مصر، کویت، قطر، بحرین اور اومان کو تنظیم کا رکن بنایا جائے۔
آرسی ڈی کی بنیاد پاکستان ، ایران اور ترکی کی طرف سے استنبول میں 21جولائی ، 1964میں رکھی گئی جس کا مقصد علاقائی تعاون اور معاشی ترقی کو فروغ دینا تھا۔جاوید اقبال کے مطابق تبدیل ہوتے ہوئے جیوپولیٹیکل اور معاشی منظرنامے نے علاقائی تعاون اور اشتراک کو پہلے سے زیادہ اہم بنادیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے بھارت کے رویے کے باعث سارک تنظیم عملی طور پر غیر موثر ہو چکی ہے اور ایک مربوط علاقائی تنظیم کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے، جس کے پیش نظر آر سی ڈی کی بحالی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے ایک ایسے متبادل علاقائی فریم ورک کی ضرورت کو اجاگر کیا جومشترکہ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دے سکے۔
انہوں نے کہاــ” پاکستان،ایران اور ترکی کیلئے آرسی ڈی میں نئے رکن شامل کرکے اسے بحال کرنے کیلئے قدم اٹھانے کا یہ بہترین وقت ہے تاکہ یہ تنظیم علاقائی روابط، تجارت اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔” انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت بشمول ایران امریکہ تنازع کے تناظر میں گوادر اور کراچی بندرگاہوں کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہیں خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کے اہم مراکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں خصوصا اگر خلیجی خطے کی سمندری تجارتی گزرگاہوں میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل پیدا ہو۔
انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ خلیج اور مغربی ایشیا کے مستقبل کے سیکورٹی ڈھانچہ کو تشکیل دینے میں اہم کردارادا کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون کیلئے وسیع تر مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
جاوید اقبال نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو علاقائی معاشی ترقی کیلئے ایک اہم پلیٹ فارم قراردیا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اسے علاقائی تعاون کے ایک وسیع تر فریم ورک کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر آر سی ڈی کو وسعت دے کر دوبارہ فعال کیا جائے تو یہ خطے میں معاشی شراکت داریوں، انفراسٹرکچر










