نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کا روشن سفر، جئے پرکاش مورانی کی جدوجہد کو شاندار خراجِ تحسین
تحریر: صحافی و براڈکاسٹر سخی غلام حسین خاصخیلی
پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں شروع ہونے والے اس سفر کا مقصد ملک میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، قانون سازی اور سماجی مساوات کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا تھا۔ گزشتہ چودہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم پارلیمنٹ، سرکاری اداروں، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے متعدد اہم کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اس جدوجہد میں سندھ کے سینئر صحافی اور سماجی کارکن جئے پرکاش مورانی کا کردار نہایت نمایاں رہا ہے۔ وہ ابتدائی دنوں سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس تحریک کا سرگرم حصہ رہے ہیں اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں ہندو برادری کے لیے شادی سے متعلق قانون کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوئی۔ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹے پر عمل یقینی بنانے کے لیے بھی مؤثر جدوجہد کی گئی۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اقلیتی طلبہ کے لیے کوٹے کی منظوری بھی اس فورم کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ صفائی کے عملے کی ملازمتوں کو صرف اقلیتوں سے منسوب کرنے والی امتیازی اور توہین آمیز روایت کے خلاف بھی آواز بلند کی گئی، جس سے روزگار کے میدان میں مساوات اور عزتِ نفس کے فروغ میں مدد ملی۔ مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے اقلیتی کوٹے کا ذکر نہ کرنے پر سو سے زائد اشتہارات دوبارہ جاری کروائے گئے اور ان میں قانونی تقاضوں کے مطابق کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔
ہندو برادری کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت کی گئی۔ معروف قانون دان مدثر فاروق اور ایڈووکیٹ جهمٹ جیٹھانند کی قانونی معاونت سے وراثتی قانون کا مسودہ تیار کیا گیا، جسے سندھ کے مختلف علاقوں کی ہندو برادری، وکلا، منتخب نمائندوں اور سماجی رہنماؤں کے مشوروں کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ توقع ہے کہ یہ مسودہ جلد قانون سازی کے مرحلے میں داخل ہوگا۔
جئے پرکاش مورانی اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ایم پرکاش، پروفیسر ڈاکٹر کلیان سنگھ، اینتھونی نوید، گرو کرشن شرما، کملا بھیل، پشپا کماری، چندن مالہی اور دیگر متعدد ساتھیوں نے اقلیتی حقوق کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سینیٹر کرشنا کماری بھی کئی برسوں تک اس فورم کی فعال رکن رہیں اور اپنی خدمات انجام دیتی رہیں۔
حال ہی میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کی بائی اینول تقریب کے دوران سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور سماجی رہنما اینتھونی نوید نے جئے پرکاش مورانی کو شیلڈ اور تعریفی سند پیش کی، جو ان کی برسوں پر محیط محنت، جدوجہد اور خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ ان تمام افراد کی اجتماعی جدوجہد کا اعتراف بھی ہے جو پاکستان میں مساوات، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
جئے پرکاش مورانی اور ان کے ساتھیوں کا یہ سفر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مستقل مزاجی، جمہوری جدوجہد اور مثبت سوچ کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اقلیتی برادریوں کے حقوق، عزت اور مساوات کے لیے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں بھی یہی جذبہ، عزم اور ولولہ اس جدوجہد کو مزید آگے بڑھاتا رہے گا۔










