حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں میرٹ، سندھ کی سالمیت، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی بے قاعدگیوں پر پاکستان پیپلز پارٹی ٹھوس اور دو ٹوک موقف دے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کے وسائل، روزگار، تعلیم، پانی اور اداروں کی شفافیت پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ سندھ کی یونیورسٹیوں میں ہر سال جو لاکھوں طلبہ داخل ہوتے ہیں، ان میں سے تقریباً چالیس پچاس ہزار بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ سندھ کی آبادی کے بڑے حصے کو معیاری تعلیم میسر نہیں۔ 45 فیصد بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔ جو داخل ہوتے ہیں، ان میں سے صرف 20 فیصد دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں اور صرف 8 فیصد انٹر کر پاتے ہیں۔ یہ حالات کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ طلبہ آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کا میرٹ کا مسئلہ ہے۔ آئی بی اے ٹیسٹ پاس نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا۔ 5 گریڈ سے 15 گریڈ تک کے نوجوانوں کو مایوس کیا گیا ہے۔ پی ایس ٹی، جے ایس ٹی والے اپنے حق سے محروم ہیں، جونیئر سائنس ٹیچر، میوزک ٹیچر، پولیس کی ویٹنگ لسٹ والے نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہمارے ملک کے وسائل، گیس، کوئلہ، تیل، بندرگاہیں اور معدنیات سندھ پیدا کرتا ہے، لیکن مقامی لوگ سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں۔ یہ ناانصافی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ پانی کی قلت، کرپشن اور اداروں کی کمزوری کے ساتھ، سندھ کو تقسیم کرنے کی ہر سازش کا پرامن، عوامی اور آئینی جواب دیا جائے گا۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔ ہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہلیت اور میرٹ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاست کو خاندانوں کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھا جائے۔ ہم سب مل کر ایک ایسے سندھ کے لیے کھڑے ہیں جہاں ہر بچے کو اسکول اور ہر نوجوان کو روزگار ملے، جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف صرف نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت بنیں۔ یہ ہمارا عزم ہے، یہ سندھ کی آواز ہے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان بڑھتا ہوا خلا صرف ترقی کا نہیں بلکہ انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری پالیسیوں کا مسئلہ ہے۔ شہری اور دیہی سندھ کے رہائشی ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک وحدت کے لازم و ملزوم حصے ہیں۔
ایاز لطیف پلیجو نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام علاقوں کے نوجوانوں کو بغیر امتیاز کے یکساں مواقع دیے جائیں، سرکاری نوکریوں اور اداروں میں میرٹ، شفافیت اور آئینی اصولوں کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ کی قومی یگانگت اور وحدت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کیا جائے۔ سندھ کی سرزمین کسی بھی تفریق کو قبول نہیں کرے گی۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہم کرپشن، نااہلی اور سندھ کی تقسیم کے منصوبوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ یہ ہمارے ایمان اور سیاسی عزم کا مرکز ہے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہم نے قومی جدوجہد کے درخت لگائے ہیں۔ جزائر پر قبضے کے وقت ہم نے جدوجہد کا آغاز کیا، پھر ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے۔ کینالز کے خلاف ہم نے ساری سندھ میں چل کر کروڑوں سندھیوں کو اٹھا کر کھڑا کیا۔ محسن نقوی نے صوبوں کی بات کی تو ہم نے اسی دن سٹی گیٹ حیدرآباد سے پیدل مارچ کر کے کہا کہ سندھ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، آج ساری سندھ سڑکوں پر ہے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ پہلے ایک شخص نے کہا تھا کہ جین زی سندھ کے ایشوز سے لاتعلق ہے۔ سندھ کے لوگ ٹوئٹر، انسٹاگرام سے غائب ہیں۔ اب وہی شخص کہتا ہے کہ نوجوانوں نے میرے ایک اردو جملے کو اٹھا کر دنیا ہلا دی ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں آگ لگا دی ہے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایک ایس پی نے بتایا کہ میں ہر امتحان میں میرٹ پر آیا ہوں لیکن پبلک سروس کمیشن نے ہر امتحان میں فیل کر دیا۔ پبلک سروس کمیشن ایک بادشاہی ادارہ ہے۔ جن کے لیے اوپر سے حکم آتے ہیں، انہیں پاس کیا جاتا ہے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ جنہیں کام کرنا ہے، قرارداد پاس کرنی ہے، قانون سازی کرنی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ "مرسوں مرسوں” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نوکریاں دو تو کہتے ہیں جیئے بھٹو۔ ہم کہتے ہیں سندھ کو توڑنے کی سازشیں بند کرو تو کہتے ہیں مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ وہ ہر مسئلے پر شاعری کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس اختیارات ہیں، جیئے بھٹو اور مرسوں مرسوں سے روزگار اور اختیارات نہیں ملیں گے۔ اگر آپ کو سندھ کی یگانگت پر یقین ہے تو حکومتی بینچوں سے اٹھ کر اپوزیشن بینچوں پر کیوں نہیں چلے جاتے؟
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ عدلیہ طلبہ کے احتجاج کا نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ وفاق اور اہلِ اقتدار سے گزارش ہے کہ ہم پرامن ہیں۔ آپ توڑنا چاہتے ہیں، ہم جوڑنا چاہتے ہیں۔ آپ کانٹے پھینکتے ہیں، ہم پھول پیش کر رہے ہیں۔ مہربانی کر کے سندھ کے لوگوں کو دیوار سے نہ لگائیں۔ آپ ساری دنیا سے ٹیکنالوجی لے آتے ہیں، دنیا میں جمہوریت، آئین، انصاف، انسانی حقوق ہیں، وہ کیوں نہیں لے آتے۔ 73 کے آئین میں خامیاں ہیں، اسے درست کریں لیکن آپ کو سندھ کی گیس، تیل، کوئلہ، سمندر، دریا، زمینیں چاہییں۔ اب آپ سندھ کی گردن کاٹنا چاہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی گردن ہے، ہم آپ کو سندھ کی گردن کاٹنے نہیں دیں گے۔ کراچی ہماری آکسیجن ہے، سانس ہے، دل ہے، دماغ ہے۔ ہم اپنی سانس کے لیے آخری گھڑی تک ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم کے پاس میئرشپ تھی، وزارتیں تھیں، حکومتیں تھیں۔ سنی تحریک، ایم کیو ایم حقیقی اور دوسروں کے کارکنان قتل کیے۔ آپ بزدل ہیں۔ تھوڑا ایکشن ہوتا ہے تو باہر بھاگ جاتے ہیں۔ دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونا بند کریں۔ سندھی اور اردو بولنے والوں سمیت سندھ میں مستقل رہنے والے ہمارے بھائی ہیں۔ یہ جو چند دہشتگرد گھوم رہے ہیں، حکومت انہیں گرفتار کر کے اندر کرے۔ یہ بدنصیب لوگ ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں باز آ جاؤ۔ ان کے مقابلے میں عام اردو بولنے والے بہادر اور غیرتمند ہیں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں اور سندھ کا حصہ ہیں۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ آئین میں ہر کسی کو اپنے احتجاج اور اظہار کا اختیار ہے۔ پرامن کارکنوں کو گرفتار کرنا جرم ہے، انہیں رہا کیا جائے۔










