امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سوموار سے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا آغاز ہونے کے بعد ایرانی بندرگاہوں سے کسی بھی قسم کی ٹریفک کو روک دیا جائے گا تاہم کسی اور مقام سے آنے والے بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت ہو گی۔
لیکن یہ ناکہ بندی ہو گی کیسے؟
امریکی بحریہ کی 2022 کی ہینڈ بک کے مطابق اس قسم کی ناکہ بندی کے دوران ہر قسم کی بحری ٹریفک کو ایسی مخصوص بندرگاہوں، ساحلی علاقوں یا فضائی اڈوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکا جاتا ہے جو دشمن کے کنٹرول میں ہوں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا, کہ ایران سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوری طور پر ناکہ بندی ہو گی لیکن اتوار کو انھوں نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔
بعد میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جائے گی جو’ ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس میں خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں شامل ہیں۔










