بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب پایا گیا، اور انھیں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔
بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے، اُن کی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر پرتشدد کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، عدالت نے قرار دیا کہ وہ مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی ’’اصل منصوبہ ساز اور مرکزی معمار‘‘ تھیں، جن میں لگ بھگ 1,400 افراد ہلاک ہوئے۔
78 سالہ مفرور سیاست دان شیخ حسینہ کو ان کی عدم حاضری میں سزا سنائی گئی ہے، عدالت نے ان کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا، اور 6 لوگوں کے قتل کیس میں سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ بنگلادیشی عدالت نے ایک اور کیس میں شیخ حسینہ واجد کو تاحیات قید کی سزا بھی سنائی۔
کیس میں سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کمال اور سابق آئی جی چوہدری عبداللہ المامون کو بھی مجرم قرار دیا گیا، عدالت نے اسد الزماں کمال کو بھی سزائے موت کا حکم سنایا، جب کہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری عبداللہ المامون کو 5 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔ چوہدری عبداللہ المامون واحد ملزم ہیں جو آج عدالت میں موجود تھے، انھوں نے گزشتہ سال بغاوت میں ملوث ہونے پر جولائی میں جرم قبول کر لیا تھا اور ریاست کے گواہ کے طور پر گواہی دی تھی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سابق وزیر اعظم نے مظاہرین پر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کرایا، اور انھوں نے نفرت انگیز تقاریر بھی کیں، لیک ہونے والے فون کال کے مطابق شیخ حسینہ نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے قتل کے احکامات دیے، اور طلبہ کے مطالبات سننے کی بجائے فسادات کو ہوا دی، عدالت نے قرار دیا کہ شیخ حسینہ نے طلبہ کی تحریک کو طاقت سے دبانے کے لیے توہین آمیز اقدامات کیے۔
عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عوامی لیگ سیاسی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتی، عدالت نے کہا شیخ حسینہ نے الزامات مسترد کیے لیکن ٹریبونل کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہوئیں، کچھ انٹرویوز میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، ان کے حکم پر کیے جانے والے کریک ڈاؤن میں 1400 لوگوں کو مہلک ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ شیخ حسینہ کی طرح اسد الزماں بھی تاحال مفرور جب کہ عبداللہ المامون زیر حراست ہے، سابق انسپکٹر جنرل پولیس المامون نے اعتراف کیا کہ وہ شرمندہ ہیں، اور وہ ریاستی گواہ بھی بنے ہوئے ہیں، 2010 میں ٹریبونل کے قیام کے بعد سے وہ ریاستی گواہ بننے والے پہلے ملزم ہیں۔
یہ فیصلہ انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل کے 3 رکنی بینچ نے سنایا، جس پر شیخ حسینہ نے رد عمل میں کہا کہ الزامات جھوٹے ہیں اور ایسے فیصلوں کی انھیں کوئی پرواہ نہیں ہے، انے بیٹے سجیب واجد نے کہا ہم جانتے تھے کہ فیصلہ کیا ہوگا، میری والدہ بھارت میں محفوظ ہیں۔









