وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ختم کردیا..
.وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر گزشتہ روز سے جاری دھرنا ختم کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب روانگی اختیار کرلی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم یہ ان کی آٹھویں کوشش بھی کامیاب نہ ہوسکی۔
ملاقات سے مسلسل انکار پر وزیراعلیٰ آفریدی نے جیل کے باہر دھرنا دیا جہاں پی ٹی آئی کے کارکن بھی ان کے ہمراہ موجود رہے۔
گورکھ پور ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ رات ہماری کارکنوں کے ساتھ یہاں گزری، یہ تو صرف ایک رات تھی، بانی پی ٹی آئی کے لیے اگر ساری زندگی بھی یہاں گزارنی پڑی تو گزار دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں تاحال بانی پی ٹی آئی کی خیریت سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا جس پر کارکنوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری تربیت ایسی ہے کہ ہم دھرنوں، احتجاج اور اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دھرنا ختم کرنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب روانہ ہوگئے جہاں وہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق قانونی پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہیں کرائی جا رہی، صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے، گوہر علی خان
یاد رہے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بانیٔ پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات نہ کروانے کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا تھا۔
خط میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے عدالتی حکم نامےکی تصدیق شدہ کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
اڈیالہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم نامے کی تصدیق شدہ کاپی نہ ہونے کے باعث وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا سکتی۔
All reactions:
3








