<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Daily Ibrat</title>
	<atom:link href="https://dailyibrat.com/news/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailyibrat.com/news</link>
	<description>Daily Ibrat Sindhi Newspaper Hyderabad</description>
	<lastBuildDate>Thu, 08 Oct 2026 10:51:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailyibrat.com/news/wp-content/uploads/icon-75x75.png</url>
	<title>Daily Ibrat</title>
	<link>https://dailyibrat.com/news</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3475/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 08 Oct 2026 10:51:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3475</guid>

					<description><![CDATA[معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے گوا: بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نانا پاٹیکر کو جمعرات کی صبح گوا میں ان کی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</p>
<p>گوا: بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نانا پاٹیکر کو جمعرات کی صبح گوا میں ان کی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔</p>
<p>اسپتال ذرائع کے مطابق نانا پاٹیکر کو صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر کے ذریعے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم ان کی حالت میں بہتری نہ آ سکی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے کا میڈیکو لیگل کیس درج کر لیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم بھی کیا جائے گا۔</p>
<p>نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بھی اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق نانا پاٹیکر کی موت قدرتی وجوہات کے باعث ہوئی۔</p>
<p>نانا پاٹیکر کا شمار بھارتی سنیما کے منفرد اور باصلاحیت اداکاروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ہندی اور مراٹھی فلموں میں کئی یادگار کردار ادا کیے۔ پریندا، کرانتی ویر، اب تک چھپن، سلام بمبئی اور ویلکم سمیت متعدد فلموں میں ان کی اداکاری کو ناظرین اور ناقدین نے سراہا۔</p>
<p>چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط فلمی کیریئر کے دوران نانا پاٹیکر کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ انہیں 2013 میں پدم شری بھی دیا گیا تھا۔</p>
<p>نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بھارتی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور مداح و فنکار سوشل میڈیا پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں شروع ہونے والے</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3469/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Sep 2026 13:13:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3469</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کا روشن سفر، جئے پرکاش مورانی کی جدوجہد کو شاندار خراجِ تحسین تحریر: صحافی و براڈکاسٹر سخی غلام حسین خاصخیلی پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کا روشن سفر، جئے پرکاش مورانی کی جدوجہد کو شاندار خراجِ تحسین<br />
تحریر: صحافی و براڈکاسٹر سخی غلام حسین خاصخیلی<br />
پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں شروع ہونے والے اس سفر کا مقصد ملک میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، قانون سازی اور سماجی مساوات کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا تھا۔ گزشتہ چودہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم پارلیمنٹ، سرکاری اداروں، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے متعدد اہم کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔<br />
اس جدوجہد میں سندھ کے سینئر صحافی اور سماجی کارکن جئے پرکاش مورانی کا کردار نہایت نمایاں رہا ہے۔ وہ ابتدائی دنوں سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس تحریک کا سرگرم حصہ رہے ہیں اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔<br />
نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں ہندو برادری کے لیے شادی سے متعلق قانون کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوئی۔ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹے پر عمل یقینی بنانے کے لیے بھی مؤثر جدوجہد کی گئی۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اقلیتی طلبہ کے لیے کوٹے کی منظوری بھی اس فورم کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔<br />
اس کے علاوہ صفائی کے عملے کی ملازمتوں کو صرف اقلیتوں سے منسوب کرنے والی امتیازی اور توہین آمیز روایت کے خلاف بھی آواز بلند کی گئی، جس سے روزگار کے میدان میں مساوات اور عزتِ نفس کے فروغ میں مدد ملی۔ مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے اقلیتی کوٹے کا ذکر نہ کرنے پر سو سے زائد اشتہارات دوبارہ جاری کروائے گئے اور ان میں قانونی تقاضوں کے مطابق کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔<br />
ہندو برادری کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت کی گئی۔ معروف قانون دان مدثر فاروق اور ایڈووکیٹ جهمٹ جیٹھانند کی قانونی معاونت سے وراثتی قانون کا مسودہ تیار کیا گیا، جسے سندھ کے مختلف علاقوں کی ہندو برادری، وکلا، منتخب نمائندوں اور سماجی رہنماؤں کے مشوروں کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ توقع ہے کہ یہ مسودہ جلد قانون سازی کے مرحلے میں داخل ہوگا۔<br />
جئے پرکاش مورانی اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ایم پرکاش، پروفیسر ڈاکٹر کلیان سنگھ، اینتھونی نوید، گرو کرشن شرما، کملا بھیل، پشپا کماری، چندن مالہی اور دیگر متعدد ساتھیوں نے اقلیتی حقوق کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سینیٹر کرشنا کماری بھی کئی برسوں تک اس فورم کی فعال رکن رہیں اور اپنی خدمات انجام دیتی رہیں۔<br />
حال ہی میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کی بائی اینول تقریب کے دوران سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور سماجی رہنما اینتھونی نوید نے جئے پرکاش مورانی کو شیلڈ اور تعریفی سند پیش کی، جو ان کی برسوں پر محیط محنت، جدوجہد اور خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ ان تمام افراد کی اجتماعی جدوجہد کا اعتراف بھی ہے جو پاکستان میں مساوات، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔<br />
جئے پرکاش مورانی اور ان کے ساتھیوں کا یہ سفر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مستقل مزاجی، جمہوری جدوجہد اور مثبت سوچ کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اقلیتی برادریوں کے حقوق، عزت اور مساوات کے لیے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں بھی یہی جذبہ، عزم اور ولولہ اس جدوجہد کو مزید آگے بڑھاتا رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شواہد سوشل میڈیا پر سامنے لاؤں گی: مومنہ اقبال کا کیس سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان اداکارہ مومنہ اقبال نے ہراسانی</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3465/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 07 Sep 2026 08:18:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3465</guid>

					<description><![CDATA[داکارہ مومنہ اقبال نے ہراسانی اور دھمکیوں کے مقدمے کے حوالے سے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس کیس کو کسی صورت ادھورا نہیں چھوڑوں گی۔ لاہور کی سیشن عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مومنہ اقبال نے کہا کہ میں پہلے دن سے مطالبہ کر رہی ہوں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>داکارہ مومنہ اقبال نے ہراسانی اور دھمکیوں کے مقدمے کے حوالے سے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس کیس کو کسی صورت ادھورا نہیں چھوڑوں گی۔<br />
لاہور کی سیشن عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مومنہ اقبال نے کہا کہ میں پہلے دن سے مطالبہ کر رہی ہوں کہ معاملے کی تحقیقات غیر جانب دارانہ انداز میں کی جائیں۔<br />
ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی لڑکی اپنی شادی سے صرف 10 روز قبل بلاوجہ اس نوعیت کا معاملہ سامنے نہیں لاتی</p>
<p>مومنہ اقبال نے واضح الفاظ میں کہا کہ چاہے جسے مرضی میرے خلاف کھڑا کیا جائے یا کسی کو بھی معاملے میں مداخلت کے لیے آمادہ کیا جائے، میں کیس کو ایسے نہیں چھوڑوں گی۔<br />
اداکارہ نے کہا کہ اگر مجھے قانونی طریقے سے انصاف نہ ملا تو میں ہراسانی سے متعلق اپنے پاس موجود شواہد سوشل میڈیا پر سامنے لاؤں گی تاکہ عوام خود حقائق کا فیصلہ کر سکیں</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے صلح کی پیشکشیں کی گئی اور معاملہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔<br />
مومنہ اقبال نے تفتیش کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سے مناسب انداز میں تحقیقات نہیں کی گئیں۔<br />
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی میں طوفانی بارش نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، مختلف علاقوں میں 230 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3461/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 01 Sep 2026 10:43:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3461</guid>

					<description><![CDATA[راولپنڈی میں طوفانی بارش نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، مختلف علاقوں میں 230 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ راولپنڈی راولپنڈی میں طوفانی بارش نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، مختلف علاقوں میں 230 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نیو کٹاریاں میں سب سے زیادہ 230 [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>راولپنڈی میں طوفانی بارش نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، مختلف علاقوں میں 230 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ</p>
<p>راولپنڈی</p>
<p>راولپنڈی میں طوفانی بارش نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا، مختلف علاقوں میں 230 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔<br />
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نیو کٹاریاں میں سب سے زیادہ 230 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ شمس آباد میں 203، چکلالہ میں 206 اور گولڑہ میں 157 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>پی ڈی ایم اے نے نالہ لئی کے اطراف رہنے والے شہریوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے  جبکہ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی 24 گھنٹے نگرانی جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب چیف واٹر انجینئر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ محمد عتیق نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں نے 16 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، اس سے قبل ایسی بارش 2010 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو آفیسر کی ہدایت پر تمام عملہ ہائی الرٹ ہے اور تاحال کسی ہنگامی صورتحال کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں نسبتاً کم بارش ہوئی جبکہ نالہ لئی کے اپ اسٹریم علاقوں میں بارش زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ایمرجنسی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے اور رہائشی 24 گھنٹے رابطہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>چیف انجینئر کے مطابق کنٹونمنٹ کو 6 حصوں میں تقسیم کر کے فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور کنٹرول روم میں </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیابان بخاری میں خواتین کے درمیان جھگڑے کے حوالے سے ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کی سربراہی میں قائم کمیٹی نےتحقیقات شروع ۔۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3458/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 31 Aug 2026 07:46:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3458</guid>

					<description><![CDATA[خیابان بخاری میں خواتین کے درمیان جھگڑے کے حوالے سے ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کی سربراہی میں قائم کمیٹی نےتحقیقات شروع ۔۔ کمیٹی کی جانب سے31 اگست کو تمام فریقین کو طلب کرلیاگیا ہے، فوٹیجز میں نظر آنے والے اہلکاروں کو بھی شناخت کے بعد طلب کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، فوٹیج میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>خیابان بخاری میں خواتین کے درمیان جھگڑے کے حوالے سے ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کی سربراہی میں قائم کمیٹی نےتحقیقات شروع ۔۔</p>
<p>کمیٹی کی جانب سے31 اگست کو تمام فریقین کو طلب کرلیاگیا ہے،</p>
<p>فوٹیجز میں نظر آنے والے اہلکاروں کو بھی شناخت کے بعد طلب کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے،</p>
<p>فوٹیج میں نظر آنے والے تمام اہلکارڈسٹرکٹ کورنگی سے تعلق رکھتے ہیں، </p>
<p>تحقیقاتی رپورٹ تین روز میں کراچی پولیس چیف کودی جائے گی،<br />
۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>یہاں جرم ہونے پر پولیس 2 دن حدود کے تعین میں مصروف رہتی ہے ۔</p>
<p>یہ کون با اثر خاتون تھی جسکی ایک فون کال پر دوسرے ڈسٹرکٹ کی پولیس اسکی سہولت کاری کیلئے فوراً پہنچ گئی ؟؟</p>
<p>حملہ اور خاتون کس انتظامی عہدیدار کی منظور نظر ہے ؟؟</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3455/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 24 Aug 2026 13:06:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3455</guid>

					<description><![CDATA[حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں میرٹ، سندھ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔  </p>
<p>اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں میرٹ، سندھ کی سالمیت، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی بے قاعدگیوں پر پاکستان پیپلز پارٹی ٹھوس اور دو ٹوک موقف دے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کے وسائل، روزگار، تعلیم، پانی اور اداروں کی شفافیت پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ سندھ کی یونیورسٹیوں میں ہر سال جو لاکھوں طلبہ داخل ہوتے ہیں، ان میں سے تقریباً چالیس پچاس ہزار بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ سندھ کی آبادی کے بڑے حصے کو معیاری تعلیم میسر نہیں۔ 45 فیصد بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔ جو داخل ہوتے ہیں، ان میں سے صرف 20 فیصد دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں اور صرف 8 فیصد انٹر کر پاتے ہیں۔ یہ حالات کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ طلبہ آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کا میرٹ کا مسئلہ ہے۔ آئی بی اے ٹیسٹ پاس نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا۔ 5 گریڈ سے 15 گریڈ تک کے نوجوانوں کو مایوس کیا گیا ہے۔ پی ایس ٹی، جے ایس ٹی والے اپنے حق سے محروم ہیں، جونیئر سائنس ٹیچر، میوزک ٹیچر، پولیس کی ویٹنگ لسٹ والے نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہمارے ملک کے وسائل، گیس، کوئلہ، تیل، بندرگاہیں اور معدنیات سندھ پیدا کرتا ہے، لیکن مقامی لوگ سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں۔ یہ ناانصافی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ پانی کی قلت، کرپشن اور اداروں کی کمزوری کے ساتھ، سندھ کو تقسیم کرنے کی ہر سازش کا پرامن، عوامی اور آئینی جواب دیا جائے گا۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔ ہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہلیت اور میرٹ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاست کو خاندانوں کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھا جائے۔ ہم سب مل کر ایک ایسے سندھ کے لیے کھڑے ہیں جہاں ہر بچے کو اسکول اور ہر نوجوان کو روزگار ملے، جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف صرف نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت بنیں۔ یہ ہمارا عزم ہے، یہ سندھ کی آواز ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان بڑھتا ہوا خلا صرف ترقی کا نہیں بلکہ انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری پالیسیوں کا مسئلہ ہے۔ شہری اور دیہی سندھ کے رہائشی ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک وحدت کے لازم و ملزوم حصے ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام علاقوں کے نوجوانوں کو بغیر امتیاز کے یکساں مواقع دیے جائیں، سرکاری نوکریوں اور اداروں میں میرٹ، شفافیت اور آئینی اصولوں کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ کی قومی یگانگت اور وحدت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کیا جائے۔ سندھ کی سرزمین کسی بھی تفریق کو قبول نہیں کرے گی۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہم کرپشن، نااہلی اور سندھ کی تقسیم کے منصوبوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ یہ ہمارے ایمان اور سیاسی عزم کا مرکز ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہم نے قومی جدوجہد کے درخت لگائے ہیں۔ جزائر پر قبضے کے وقت ہم نے جدوجہد کا آغاز کیا، پھر ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے۔ کینالز کے خلاف ہم نے ساری سندھ میں چل کر کروڑوں سندھیوں کو اٹھا کر کھڑا کیا۔ محسن نقوی نے صوبوں کی بات کی تو ہم نے اسی دن سٹی گیٹ حیدرآباد سے پیدل مارچ کر کے کہا کہ سندھ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، آج ساری سندھ سڑکوں پر ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ پہلے ایک شخص نے کہا تھا کہ جین زی سندھ کے ایشوز سے لاتعلق ہے۔ سندھ کے لوگ ٹوئٹر، انسٹاگرام سے غائب ہیں۔ اب وہی شخص کہتا ہے کہ نوجوانوں نے میرے ایک اردو جملے کو اٹھا کر دنیا ہلا دی ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں آگ لگا دی ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایک ایس پی نے بتایا کہ میں ہر امتحان میں میرٹ پر آیا ہوں لیکن پبلک سروس کمیشن نے ہر امتحان میں فیل کر دیا۔ پبلک سروس کمیشن ایک بادشاہی ادارہ ہے۔ جن کے لیے اوپر سے حکم آتے ہیں، انہیں پاس کیا جاتا ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ جنہیں کام کرنا ہے، قرارداد پاس کرنی ہے، قانون سازی کرنی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ &quot;مرسوں مرسوں&#8221; کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نوکریاں دو تو کہتے ہیں جیئے بھٹو۔ ہم کہتے ہیں سندھ کو توڑنے کی سازشیں بند کرو تو کہتے ہیں مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ وہ ہر مسئلے پر شاعری کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس اختیارات ہیں، جیئے بھٹو اور مرسوں مرسوں سے روزگار اور اختیارات نہیں ملیں گے۔ اگر آپ کو سندھ کی یگانگت پر یقین ہے تو حکومتی بینچوں سے اٹھ کر اپوزیشن بینچوں پر کیوں نہیں چلے جاتے؟  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ عدلیہ طلبہ کے احتجاج کا نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ وفاق اور اہلِ اقتدار سے گزارش ہے کہ ہم پرامن ہیں۔ آپ توڑنا چاہتے ہیں، ہم جوڑنا چاہتے ہیں۔ آپ کانٹے پھینکتے ہیں، ہم پھول پیش کر رہے ہیں۔ مہربانی کر کے سندھ کے لوگوں کو دیوار سے نہ لگائیں۔ آپ ساری دنیا سے ٹیکنالوجی لے آتے ہیں، دنیا میں جمہوریت، آئین، انصاف، انسانی حقوق ہیں، وہ کیوں نہیں لے آتے۔ 73 کے آئین میں خامیاں ہیں، اسے درست کریں لیکن آپ کو سندھ کی گیس، تیل، کوئلہ، سمندر، دریا، زمینیں چاہییں۔ اب آپ سندھ کی گردن کاٹنا چاہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی گردن ہے، ہم آپ کو سندھ کی گردن کاٹنے نہیں دیں گے۔ کراچی ہماری آکسیجن ہے، سانس ہے، دل ہے، دماغ ہے۔ ہم اپنی سانس کے لیے آخری گھڑی تک ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم کے پاس میئرشپ تھی، وزارتیں تھیں، حکومتیں تھیں۔ سنی تحریک، ایم کیو ایم حقیقی اور دوسروں کے کارکنان قتل کیے۔ آپ بزدل ہیں۔ تھوڑا ایکشن ہوتا ہے تو باہر بھاگ جاتے ہیں۔ دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونا بند کریں۔ سندھی اور اردو بولنے والوں سمیت سندھ میں مستقل رہنے والے ہمارے بھائی ہیں۔ یہ جو چند دہشتگرد گھوم رہے ہیں، حکومت انہیں گرفتار کر کے اندر کرے۔ یہ بدنصیب لوگ ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں باز آ جاؤ۔ ان کے مقابلے میں عام اردو بولنے والے بہادر اور غیرتمند ہیں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں اور سندھ کا حصہ ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ آئین میں ہر کسی کو اپنے احتجاج اور اظہار کا اختیار ہے۔ پرامن کارکنوں کو گرفتار کرنا جرم ہے، انہیں رہا کیا جائے۔  </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی یادگارِ شہداء پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3451/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2026 12:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3451</guid>

					<description><![CDATA[یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی یادگارِ شہداء پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی۔ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پولیس کے شہداء کی لازوال قربانیاں قوم کا [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی یادگارِ شہداء پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی۔<br />
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔<br />
پولیس کے شہداء کی لازوال قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ اور ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی۔<br />
سندھ پولیس اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔<br />
عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور قیامِ امن کے عزم کی تجدید کی گئی۔<br />
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔<br />
یومِ شہداء پولیس تجدیدِ عہد، ایثار، بہادری اور فرض شناسی کی لازوال روایت کی یاد دلاتا ہے۔<br />
شہداء کی قربانیاں سندھ پولیس کے ہر افسر اور جوان کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>*پی ڈی ایم اے سندھ کا صوبے میں بارشوں اور اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری*</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3446/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Jul 2026 08:51:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3446</guid>

					<description><![CDATA[*پی ڈی ایم اے سندھ کا صوبے میں بارشوں اور اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری* محکمہ موسمیات کی جانب سے 31جولائی سے 2 اگست تک سندھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ، بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>*پی ڈی ایم اے سندھ کا صوبے میں بارشوں اور اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری*<br />
محکمہ موسمیات کی جانب سے 31جولائی سے 2 اگست تک سندھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے<br />
کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ، بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ اور سانگھڑ میں تیز بارشوں کا امکان ہے، سلمان شاہ<br />
خیرپور، جیکب آباد، شکارپور، گھوٹکی، کشمور اور قمبر شہدادکوٹ میں بھی بارش متوقع ہے، سلمان شاہ<br />
ٹھٹھہ، جامشورو، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار اور شہید بینظیر آباد میں بارشوں کا الرٹ جاری کیا گیا ہے، سلمان شاہ<br />
کئی اضلاع میں نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا امکان ہے، نکاسی آب کے لیے پمپس اور گاڑیاں تیار ہیں، سلمان شاہ<br />
میرپورخاص، نواب شاہ، سکھر، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، مٹھی، اور عمرکوٹ میں اربن فلڈنگ ہو سکتی ہے، سلمان شاہ<br />
پی ڈی ایم اے کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے، صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، سلمان شاہ<br />
کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، سلمان شاہ<br />
متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، سلمان شاہ<br />
شہری بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں، سلمان شاہ</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستانی کرکٹر پر ہراساں کرنے کے الزامات کے ایک دن بعد ماڈل ہما سلیم کا انسٹاگرام اکاؤنٹ غائب ہوگیا۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3437/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 17 Jul 2026 09:52:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3437</guid>

					<description><![CDATA[پاکستانی ماڈل اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والی ہما سلیم کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اب سوشل میڈیا ایپ پر قابل رسائی نہیں ہے، جس کے ایک دن بعد اس نے ایک نامعلوم قومی کرکٹر پر ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور جذباتی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔ اس کی پروفائل دیکھنے کی کوشش کرنے والے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستانی ماڈل اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والی ہما سلیم کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اب سوشل میڈیا ایپ پر قابل رسائی نہیں ہے، جس کے ایک دن بعد اس نے ایک نامعلوم قومی کرکٹر پر ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور جذباتی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔</p>
<p>اس کی پروفائل دیکھنے کی کوشش کرنے والے زائرین کو اب ایک پیغام ملا ہے جس میں لکھا ہے، &quot;معذرت، یہ صفحہ دستیاب نہیں ہے۔&#8221;</p>
<p>ہما کی جانب سے کرکٹر کے خلاف سنگین الزامات لگانے کے لیے انسٹاگرام اسٹوریز کا استعمال کرنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اکاؤنٹ غائب ہوگیا، جس کی شناخت اس نے ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>جمعرات کو شیئر کی گئی اپنی پوسٹ میں، ہما نے کرکٹر کو &quot;دھوکہ دہی، فراڈ، اور عورت ساز&#8221; قرار دیا اور کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے ان دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہونے کے باوجود اس نے اسے نشانہ بنانا جاری رکھا۔ انہوں نے لکھا کہ اس مشہور کرکٹر نے آج مجھے دھمکیاں دے کر اور ہراساں کر کے میرے ساتھ تمام حدیں پار کر دیں۔</p>
<p>اس نے الزام لگایا کہ زیادتی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ &quot;میں نے اس کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اس ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔ میں ایک بدسلوکی سے تعلق رکھتی تھی اور خاموش رہی، لیکن اس بار میری حد سے تجاوز کر گیا ہے۔&#8221;</p>
<p>ہما نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کرکٹر نے اپنے ساتھیوں، خاندان کے ارکان اور کام کی جگہ کے ساتھیوں تک پہنچ کر اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے طرز عمل کو مزید بے نقاب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں اس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز کے غلط استعمال کو بھی بیان کیا ہے۔</p>
<p>اس نے کہا کہ وہ قانونی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور اپنے دعوؤں کی حمایت کے لیے اپنی قانونی ٹیم کو ثبوت پیش کرے گی۔ &quot;ہر کہانی کا دوسرا رخ ہوتا ہے۔ اس نے لوگوں کے سامنے مجھے بدنام کیا، مجھے دھوکہ دیا، اور ہمارے بارے میں سب سے جھوٹ بولا،&#8221; انہوں نے لکھا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>ہما کے الزامات میں نامزد کرکٹر کی عوامی سطح پر شناخت نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی ردعمل </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غیر فعال سرد خانے سے زندگی کی امید تک SIEHS-1122 نے اورنگی ٹاؤن میں جدید ایمرجنسی ریسپانس سینٹر قائم کر دیا</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3432/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:26:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3432</guid>

					<description><![CDATA[کراچی: حکومتِ سندھ کے ادارے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS-1122) نے اورنگی ٹاؤن میں اپنے نئے ایمرجنسی آپریشنل بیس کا افتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور SIEHS-1122 کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تھے، جبکہ تقریب [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی: حکومتِ سندھ کے ادارے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS-1122) نے  اورنگی ٹاؤن میں اپنے نئے ایمرجنسی آپریشنل بیس کا افتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور SIEHS-1122 کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا۔<br />
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تھے، جبکہ تقریب میں برگیڈیئر  طارق قادر لکھیار (ر)،  چیف ایگزیکٹو آفیسر SIEHS-1122، مقامی منتخب نمائندوں، معززینِ علاقہ، سماجی شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے بھی شرکت کی۔<br />
SIEHS-1122 کا یہ آپریشنل بیس پہلے کٹی پہاڑی میں قائم تھا، جسے اب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ نئی جگہ پر، بنارس کے قریب منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نئی جگہ کے انتخاب کا مقصد اورنگی ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کی رفتار اور رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ ایمبولینسیں ٹریفک اور رش والے علاقوں میں بھی کم سے کم وقت میں مریضوں تک پہنچ سکیں۔<br />
یہ منصوبہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ جس عمارت میں نیا آپریشنل بیس قائم کیا گیا ہے، وہ کئی برسوں سے غیر فعال تھی۔ SIEHS-1122 نے اس جگہ کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے مکمل فعال ایمرجنسی مرکز میں تبدیل کیا ہے، جہاں ISO 9001:2015 کے عالمی معیار کے مطابق چوبیس گھنٹے مفت پری ہاسپٹل ایمرجنسی طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔<br />
اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر فعال سرکاری اثاثوں کو عوامی خدمت کے مراکز میں تبدیل کرنا حکومتِ سندھ اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں مؤثر اور بروقت ایمرجنسی سروسز کی فراہمی انتہائی ضروری ہے، اور SIEHS-1122 کے ساتھ مل کر شہریوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔<br />
انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور SIEHS-1122 کے باہمی تعاون سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کراچی کے ہر شہری کو بروقت، معیاری اور باوقار ایمرجنسی طبی سہولت میسر آئے۔<br />
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برگیڈیئر  طارق قادر لکھیار (ر)،  چیف ایگزیکٹو آفیسر SIEHS-1122 نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ایک اسٹیشن کی منتقلی نہیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز کے قریب بہتر ایمرجنسی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر استعمال شدہ سرکاری جگہ کو جدید ایمرجنسی آپریشنل بیس میں تبدیل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ عوامی وسائل کو مؤثر انداز میں عوام کی خدمت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔<br />
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئی جگہ کی بدولت SIEHS-1122 کی ٹیمیں اورنگی ٹاؤن اور کراچی ویسٹ کے مختلف علاقوں میں پہلے سے زیادہ تیزی، مؤثر انداز اور بہتر ہم آہنگی کے ساتھ خدمات انجام دے سکیں گی۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ منصوبہ ممکن ہوا۔<br />
انہوں نے کہا کہ KMC اور SIEHS-1122 کے درمیان یہ اشتراک کراچی میں ایمرجنسی سروسز کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ مستقبل میں بھی عوامی فلاح کے مزید منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔<br />
واضح رہے کہ SIEHS-1122 اس وقت سندھ کے تمام 30 اضلاع میں 627 سے زائد ایمرجنسی گاڑیوں کے ذریعے چوبیس گھنٹے مفت پری ہاسپٹل ایمرجنسی طبی خدمات فراہم کر رہا ہے اور صوبے بھر میں ایمرجنسی رسپانس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔<br />
آخر میں ادارے نے کراچی کے مخیر حضرات، صنعت کاروں، کاروباری برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قومی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مفت ایمرجنسی ایمبولینس سروسز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
