<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سندھ &#8211; Daily Ibrat</title>
	<atom:link href="https://dailyibrat.com/news/category/sindh/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailyibrat.com/news</link>
	<description>Daily Ibrat Sindhi Newspaper Hyderabad</description>
	<lastBuildDate>Thu, 24 Sep 2026 13:13:35 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailyibrat.com/news/wp-content/uploads/icon-75x75.png</url>
	<title>سندھ &#8211; Daily Ibrat</title>
	<link>https://dailyibrat.com/news</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں شروع ہونے والے</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3469/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Sep 2026 13:13:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3469</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کا روشن سفر، جئے پرکاش مورانی کی جدوجہد کو شاندار خراجِ تحسین تحریر: صحافی و براڈکاسٹر سخی غلام حسین خاصخیلی پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کا روشن سفر، جئے پرکاش مورانی کی جدوجہد کو شاندار خراجِ تحسین<br />
تحریر: صحافی و براڈکاسٹر سخی غلام حسین خاصخیلی<br />
پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، قانونی اور سماجی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن (NLD) ایک اہم اور باوقار مقام رکھتی ہے۔ 2012ء میں شروع ہونے والے اس سفر کا مقصد ملک میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، قانون سازی اور سماجی مساوات کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا تھا۔ گزشتہ چودہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم پارلیمنٹ، سرکاری اداروں، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے متعدد اہم کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔<br />
اس جدوجہد میں سندھ کے سینئر صحافی اور سماجی کارکن جئے پرکاش مورانی کا کردار نہایت نمایاں رہا ہے۔ وہ ابتدائی دنوں سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس تحریک کا سرگرم حصہ رہے ہیں اور اقلیتی برادریوں کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بے لوث خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔<br />
نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں ہندو برادری کے لیے شادی سے متعلق قانون کی منظوری اور اس پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوئی۔ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے مختص پانچ فیصد کوٹے پر عمل یقینی بنانے کے لیے بھی مؤثر جدوجہد کی گئی۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اقلیتی طلبہ کے لیے کوٹے کی منظوری بھی اس فورم کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔<br />
اس کے علاوہ صفائی کے عملے کی ملازمتوں کو صرف اقلیتوں سے منسوب کرنے والی امتیازی اور توہین آمیز روایت کے خلاف بھی آواز بلند کی گئی، جس سے روزگار کے میدان میں مساوات اور عزتِ نفس کے فروغ میں مدد ملی۔ مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے اقلیتی کوٹے کا ذکر نہ کرنے پر سو سے زائد اشتہارات دوبارہ جاری کروائے گئے اور ان میں قانونی تقاضوں کے مطابق کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔<br />
ہندو برادری کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم پیش رفت کی گئی۔ معروف قانون دان مدثر فاروق اور ایڈووکیٹ جهمٹ جیٹھانند کی قانونی معاونت سے وراثتی قانون کا مسودہ تیار کیا گیا، جسے سندھ کے مختلف علاقوں کی ہندو برادری، وکلا، منتخب نمائندوں اور سماجی رہنماؤں کے مشوروں کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ توقع ہے کہ یہ مسودہ جلد قانون سازی کے مرحلے میں داخل ہوگا۔<br />
جئے پرکاش مورانی اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ایم پرکاش، پروفیسر ڈاکٹر کلیان سنگھ، اینتھونی نوید، گرو کرشن شرما، کملا بھیل، پشپا کماری، چندن مالہی اور دیگر متعدد ساتھیوں نے اقلیتی حقوق کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سینیٹر کرشنا کماری بھی کئی برسوں تک اس فورم کی فعال رکن رہیں اور اپنی خدمات انجام دیتی رہیں۔<br />
حال ہی میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کی بائی اینول تقریب کے دوران سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور سماجی رہنما اینتھونی نوید نے جئے پرکاش مورانی کو شیلڈ اور تعریفی سند پیش کی، جو ان کی برسوں پر محیط محنت، جدوجہد اور خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ ان تمام افراد کی اجتماعی جدوجہد کا اعتراف بھی ہے جو پاکستان میں مساوات، رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔<br />
جئے پرکاش مورانی اور ان کے ساتھیوں کا یہ سفر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ مستقل مزاجی، جمہوری جدوجہد اور مثبت سوچ کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اقلیتی برادریوں کے حقوق، عزت اور مساوات کے لیے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں بھی یہی جذبہ، عزم اور ولولہ اس جدوجہد کو مزید آگے بڑھاتا رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3455/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 24 Aug 2026 13:06:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3455</guid>

					<description><![CDATA[حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں میرٹ، سندھ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>حیدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو میرٹ کے قتل کے خلاف سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے احتجاجی کیمپ پر پہنچے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔  </p>
<p>اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں میرٹ، سندھ کی سالمیت، پانی کی قلت اور بڑھتی ہوئی بے قاعدگیوں پر پاکستان پیپلز پارٹی ٹھوس اور دو ٹوک موقف دے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کے وسائل، روزگار، تعلیم، پانی اور اداروں کی شفافیت پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ سندھ کی یونیورسٹیوں میں ہر سال جو لاکھوں طلبہ داخل ہوتے ہیں، ان میں سے تقریباً چالیس پچاس ہزار بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ سندھ کی آبادی کے بڑے حصے کو معیاری تعلیم میسر نہیں۔ 45 فیصد بچے اسکول ہی نہیں جاتے۔ جو داخل ہوتے ہیں، ان میں سے صرف 20 فیصد دسویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں اور صرف 8 فیصد انٹر کر پاتے ہیں۔ یہ حالات کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ طلبہ آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کا میرٹ کا مسئلہ ہے۔ آئی بی اے ٹیسٹ پاس نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا۔ 5 گریڈ سے 15 گریڈ تک کے نوجوانوں کو مایوس کیا گیا ہے۔ پی ایس ٹی، جے ایس ٹی والے اپنے حق سے محروم ہیں، جونیئر سائنس ٹیچر، میوزک ٹیچر، پولیس کی ویٹنگ لسٹ والے نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہمارے ملک کے وسائل، گیس، کوئلہ، تیل، بندرگاہیں اور معدنیات سندھ پیدا کرتا ہے، لیکن مقامی لوگ سہولیات اور روزگار سے محروم ہیں۔ یہ ناانصافی اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ پانی کی قلت، کرپشن اور اداروں کی کمزوری کے ساتھ، سندھ کو تقسیم کرنے کی ہر سازش کا پرامن، عوامی اور آئینی جواب دیا جائے گا۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔ ہم صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہلیت اور میرٹ کو ترجیح دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاست کو خاندانوں کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھا جائے۔ ہم سب مل کر ایک ایسے سندھ کے لیے کھڑے ہیں جہاں ہر بچے کو اسکول اور ہر نوجوان کو روزگار ملے، جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف صرف نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت بنیں۔ یہ ہمارا عزم ہے، یہ سندھ کی آواز ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان بڑھتا ہوا خلا صرف ترقی کا نہیں بلکہ انصاف، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سرکاری پالیسیوں کا مسئلہ ہے۔ شہری اور دیہی سندھ کے رہائشی ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک وحدت کے لازم و ملزوم حصے ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تمام علاقوں کے نوجوانوں کو بغیر امتیاز کے یکساں مواقع دیے جائیں، سرکاری نوکریوں اور اداروں میں میرٹ، شفافیت اور آئینی اصولوں کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ کی قومی یگانگت اور وحدت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی قدم سے گریز کیا جائے۔ سندھ کی سرزمین کسی بھی تفریق کو قبول نہیں کرے گی۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہم کرپشن، نااہلی اور سندھ کی تقسیم کے منصوبوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ یہ ہمارے ایمان اور سیاسی عزم کا مرکز ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ہم نے قومی جدوجہد کے درخت لگائے ہیں۔ جزائر پر قبضے کے وقت ہم نے جدوجہد کا آغاز کیا، پھر ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے۔ کینالز کے خلاف ہم نے ساری سندھ میں چل کر کروڑوں سندھیوں کو اٹھا کر کھڑا کیا۔ محسن نقوی نے صوبوں کی بات کی تو ہم نے اسی دن سٹی گیٹ حیدرآباد سے پیدل مارچ کر کے کہا کہ سندھ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے، آج ساری سندھ سڑکوں پر ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ پہلے ایک شخص نے کہا تھا کہ جین زی سندھ کے ایشوز سے لاتعلق ہے۔ سندھ کے لوگ ٹوئٹر، انسٹاگرام سے غائب ہیں۔ اب وہی شخص کہتا ہے کہ نوجوانوں نے میرے ایک اردو جملے کو اٹھا کر دنیا ہلا دی ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں آگ لگا دی ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایک ایس پی نے بتایا کہ میں ہر امتحان میں میرٹ پر آیا ہوں لیکن پبلک سروس کمیشن نے ہر امتحان میں فیل کر دیا۔ پبلک سروس کمیشن ایک بادشاہی ادارہ ہے۔ جن کے لیے اوپر سے حکم آتے ہیں، انہیں پاس کیا جاتا ہے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ جنہیں کام کرنا ہے، قرارداد پاس کرنی ہے، قانون سازی کرنی ہے، وہ بھی ہمارے ساتھ &quot;مرسوں مرسوں&#8221; کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نوکریاں دو تو کہتے ہیں جیئے بھٹو۔ ہم کہتے ہیں سندھ کو توڑنے کی سازشیں بند کرو تو کہتے ہیں مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ وہ ہر مسئلے پر شاعری کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس اختیارات ہیں، جیئے بھٹو اور مرسوں مرسوں سے روزگار اور اختیارات نہیں ملیں گے۔ اگر آپ کو سندھ کی یگانگت پر یقین ہے تو حکومتی بینچوں سے اٹھ کر اپوزیشن بینچوں پر کیوں نہیں چلے جاتے؟  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ عدلیہ طلبہ کے احتجاج کا نوٹس کیوں نہیں لیتی۔ وفاق اور اہلِ اقتدار سے گزارش ہے کہ ہم پرامن ہیں۔ آپ توڑنا چاہتے ہیں، ہم جوڑنا چاہتے ہیں۔ آپ کانٹے پھینکتے ہیں، ہم پھول پیش کر رہے ہیں۔ مہربانی کر کے سندھ کے لوگوں کو دیوار سے نہ لگائیں۔ آپ ساری دنیا سے ٹیکنالوجی لے آتے ہیں، دنیا میں جمہوریت، آئین، انصاف، انسانی حقوق ہیں، وہ کیوں نہیں لے آتے۔ 73 کے آئین میں خامیاں ہیں، اسے درست کریں لیکن آپ کو سندھ کی گیس، تیل، کوئلہ، سمندر، دریا، زمینیں چاہییں۔ اب آپ سندھ کی گردن کاٹنا چاہتے ہیں۔ کراچی سندھ کی گردن ہے، ہم آپ کو سندھ کی گردن کاٹنے نہیں دیں گے۔ کراچی ہماری آکسیجن ہے، سانس ہے، دل ہے، دماغ ہے۔ ہم اپنی سانس کے لیے آخری گھڑی تک ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایم کیو ایم کے پاس میئرشپ تھی، وزارتیں تھیں، حکومتیں تھیں۔ سنی تحریک، ایم کیو ایم حقیقی اور دوسروں کے کارکنان قتل کیے۔ آپ بزدل ہیں۔ تھوڑا ایکشن ہوتا ہے تو باہر بھاگ جاتے ہیں۔ دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونا بند کریں۔ سندھی اور اردو بولنے والوں سمیت سندھ میں مستقل رہنے والے ہمارے بھائی ہیں۔ یہ جو چند دہشتگرد گھوم رہے ہیں، حکومت انہیں گرفتار کر کے اندر کرے۔ یہ بدنصیب لوگ ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں باز آ جاؤ۔ ان کے مقابلے میں عام اردو بولنے والے بہادر اور غیرتمند ہیں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں اور سندھ کا حصہ ہیں۔  </p>
<p>ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ آئین میں ہر کسی کو اپنے احتجاج اور اظہار کا اختیار ہے۔ پرامن کارکنوں کو گرفتار کرنا جرم ہے، انہیں رہا کیا جائے۔  </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی یادگارِ شہداء پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3451/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 05 Aug 2026 12:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3451</guid>

					<description><![CDATA[یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی یادگارِ شہداء پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی۔ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ پولیس کے شہداء کی لازوال قربانیاں قوم کا [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>یومِ شہداء پولیس کے موقع پر ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی یادگارِ شہداء پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی۔<br />
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔<br />
پولیس کے شہداء کی لازوال قربانیاں قوم کا عظیم سرمایہ اور ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی۔<br />
سندھ پولیس اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔<br />
عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور قیامِ امن کے عزم کی تجدید کی گئی۔<br />
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے شہداء کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔<br />
یومِ شہداء پولیس تجدیدِ عہد، ایثار، بہادری اور فرض شناسی کی لازوال روایت کی یاد دلاتا ہے۔<br />
شہداء کی قربانیاں سندھ پولیس کے ہر افسر اور جوان کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غیر فعال سرد خانے سے زندگی کی امید تک SIEHS-1122 نے اورنگی ٹاؤن میں جدید ایمرجنسی ریسپانس سینٹر قائم کر دیا</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3432/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 17 Jul 2026 08:26:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3432</guid>

					<description><![CDATA[کراچی: حکومتِ سندھ کے ادارے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS-1122) نے اورنگی ٹاؤن میں اپنے نئے ایمرجنسی آپریشنل بیس کا افتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور SIEHS-1122 کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تھے، جبکہ تقریب [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی: حکومتِ سندھ کے ادارے سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS-1122) نے  اورنگی ٹاؤن میں اپنے نئے ایمرجنسی آپریشنل بیس کا افتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) اور SIEHS-1122 کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا۔<br />
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تھے، جبکہ تقریب میں برگیڈیئر  طارق قادر لکھیار (ر)،  چیف ایگزیکٹو آفیسر SIEHS-1122، مقامی منتخب نمائندوں، معززینِ علاقہ، سماجی شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے بھی شرکت کی۔<br />
SIEHS-1122 کا یہ آپریشنل بیس پہلے کٹی پہاڑی میں قائم تھا، جسے اب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ نئی جگہ پر، بنارس کے قریب منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس نئی جگہ کے انتخاب کا مقصد اورنگی ٹاؤن اور ملحقہ علاقوں میں ایمرجنسی سروسز کی رفتار اور رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ ایمبولینسیں ٹریفک اور رش والے علاقوں میں بھی کم سے کم وقت میں مریضوں تک پہنچ سکیں۔<br />
یہ منصوبہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ جس عمارت میں نیا آپریشنل بیس قائم کیا گیا ہے، وہ کئی برسوں سے غیر فعال تھی۔ SIEHS-1122 نے اس جگہ کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے مکمل فعال ایمرجنسی مرکز میں تبدیل کیا ہے، جہاں ISO 9001:2015 کے عالمی معیار کے مطابق چوبیس گھنٹے مفت پری ہاسپٹل ایمرجنسی طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔<br />
اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر فعال سرکاری اثاثوں کو عوامی خدمت کے مراکز میں تبدیل کرنا حکومتِ سندھ اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں مؤثر اور بروقت ایمرجنسی سروسز کی فراہمی انتہائی ضروری ہے، اور SIEHS-1122 کے ساتھ مل کر شہریوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔<br />
انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور SIEHS-1122 کے باہمی تعاون سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کراچی کے ہر شہری کو بروقت، معیاری اور باوقار ایمرجنسی طبی سہولت میسر آئے۔<br />
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برگیڈیئر  طارق قادر لکھیار (ر)،  چیف ایگزیکٹو آفیسر SIEHS-1122 نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ایک اسٹیشن کی منتقلی نہیں بلکہ عوام کو ان کی دہلیز کے قریب بہتر ایمرجنسی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر استعمال شدہ سرکاری جگہ کو جدید ایمرجنسی آپریشنل بیس میں تبدیل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ عوامی وسائل کو مؤثر انداز میں عوام کی خدمت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔<br />
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئی جگہ کی بدولت SIEHS-1122 کی ٹیمیں اورنگی ٹاؤن اور کراچی ویسٹ کے مختلف علاقوں میں پہلے سے زیادہ تیزی، مؤثر انداز اور بہتر ہم آہنگی کے ساتھ خدمات انجام دے سکیں گی۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے یہ منصوبہ ممکن ہوا۔<br />
انہوں نے کہا کہ KMC اور SIEHS-1122 کے درمیان یہ اشتراک کراچی میں ایمرجنسی سروسز کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ مستقبل میں بھی عوامی فلاح کے مزید منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔<br />
واضح رہے کہ SIEHS-1122 اس وقت سندھ کے تمام 30 اضلاع میں 627 سے زائد ایمرجنسی گاڑیوں کے ذریعے چوبیس گھنٹے مفت پری ہاسپٹل ایمرجنسی طبی خدمات فراہم کر رہا ہے اور صوبے بھر میں ایمرجنسی رسپانس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔<br />
آخر میں ادارے نے کراچی کے مخیر حضرات، صنعت کاروں، کاروباری برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قومی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مفت ایمرجنسی ایمبولینس سروسز کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف ایف سی اور یارا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3424/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 08 Jul 2026 12:35:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3424</guid>

					<description><![CDATA[راولپنڈی: فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف سی) ، جو معیاری کھادوں کی تیاری، فراہمی اور جدید زرعی رہنمائی کے حوالے سے پاکستان کی صف اول کی فرٹیلائزر کمپنی ہے، نے عالمی شہرت یافتہ ادارے یارا انٹرنیشنل اے ایس اے کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت قائم کرکے پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>راولپنڈی: فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف سی) ، جو معیاری کھادوں کی تیاری، فراہمی اور جدید زرعی رہنمائی کے حوالے سے پاکستان کی صف اول کی فرٹیلائزر کمپنی ہے، نے عالمی شہرت یافتہ ادارے یارا انٹرنیشنل اے ایس اے کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت قائم کرکے پاکستان کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔</p>
<p>1905 میں ناروے میں قائم یارا انٹرنیشنل آج دنیا کے 140 سے زائد ممالک میں فصلوں کی غذائیت، پودوں کی نشوونما اور پائیدار زراعت کے لیے جدید اور سائنسی بنیادوں پر حل فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>یہ شراکت داری ایف ایف سی کے 48 سالہ اعتماد ، وسیع ملک گیر مارکیٹنگ نیٹ ورک اور پاکستانی زراعت کے بارے میں گھریلو تجربے کو یارا کی 120 سال سے زیادہ کی عالمی تحقیق ، فصلوں کی غذائیت کی مہارت ، زرعی تکنیکی علم اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ لاتی ہے ، جس کا مقصد پاکستان کے کسانوں تک عالمی معیار کی حیاتیاتی اور خصوصی پلانٹ غذائیت کی مصنوعات پہنچانا ہے۔</p>
<p>اس اسٹریٹجک تعاون کے تحت سونا اور یارا برانڈز نے مشترکہ طور پر پاکستان میں اعلی معیار کی حیاتیاتی اور اسپیشلٹی پلانٹ نیوٹریشن مصنوعات کا ایک پریمیم پورٹ فولیو متعارف کرایا ہے، جس میں YaraAmplix OptiTracTM&#xfe0f;، YaraVita Crop BoostTM&#xfe0f;، YaraVita BortracTM&#xfe0f;، YaraVita FrutrelTM&#xfe0f;، YaraVita SolatrelTM&#xfe0f; اور انتہائی قابل حل کھاد YaraLiva TropiCoatTM&#xfe0f; شامل ہیں۔</p>
<p>ان جدید مصنوعات کی باضابطہ رونمائی کی تقریب سونا ٹاور ، ایف ایف سی ہیڈ آفس ، راولپنڈی میں ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل کی اعلی قیادت کی موجودگی میں منعقد کی گئی۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف ایف سی کے چیف کمرشل آفیسر محمد علی جنجوعہ نے کہا کہ یہ تاریخی شراکت داری ایف ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جہانگیر پراچہ اور یارا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سوین تورہ ہولسیتر کی دور اندیش قیادت کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایف ایف سی جدید زرعی ٹیکنالوجی اور موثر فصلوں کی غذائیت کے فروغ میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے تاکہ کسان کم لاگت سے زیادہ پیداوار اور بہتر آمدنی حاصل کرسکیں۔ یارا انٹرنیشنل کے ساتھ یہ تعاون پاکستان میں عالمی معیار کے فصلوں کے غذائیت کے حل متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی دباؤ زرعی پیداوار اور قومی غذائی تحفظ کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ، ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل نے پاکستان کی زرعی حالت ، مختلف فصلوں ، موسمی ضروریات اور زمینی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اعلی معیار کی خصوصی کھادیں اور بائیو اسٹیملینٹس متعارف کروائے ہیں ، جو غذائی اجزاء کی موثر فراہمی ، پتیوں کے ذریعے بہتر جذب اور فصلوں کی حساس نشوونما کے دوران بہترین نتائج فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان مصنوعات کو نیکسجن نیوٹریٹس کے برانڈ کے تحت ایف ایف سی کے ملک گیر مارکیٹنگ اور زرعی مشاورت کے نیٹ ورک کے ذریعے پورے ملک میں دستیاب کیا جائے گا تاکہ ہر کسان جدید عالمی زرعی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔</p>
<p>اس موقع پر یارا افریقہ اینڈ ایشیا کے سینئر نائب صدر الیگزینڈر میسیڈو نے کہا کہ اس شراکت داری کی بنیاد عالمی فرٹیلائزر کانفرنس کے دوران دونوں اداروں کی اعلیٰ قیادت کی ملاقاتوں پر رکھی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائنسی بنیادوں پر موسمی غذائیت اور پائیدار زراعت کے ذریعے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ یارا اور ایف ایف سی کی مشترکہ کوششوں سے عالمی مہارت کو مقامی تجربے سے ہم آہنگ کرکے کسانوں تک جدید زرعی حل پہنچائے جائیں گے جس سے پیداوار، منافع، وسائل کے موثر استعمال اور قومی غذائی تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ اسٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی زرعی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور ماحول دوست، پائیدار زرعی مستقبل کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بارشوں کا الرٹ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے ہدایت جاری کر دی۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3357/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 27 Mar 2026 06:51:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3357</guid>

					<description><![CDATA[کراچی سندھ میں بارشوں کے الرٹ کے باعث پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی پی اے اے نے ہدایات جاری کردیں۔ پی اے اے کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ میں 29 مارچ تک گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی ہے جس کے پیش نظر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام متعلقہ حکام اور آپریشنل اسٹاف الرٹ [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی سندھ میں بارشوں کے الرٹ کے باعث پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی پی اے اے نے ہدایات جاری کردیں۔</p>
<p> پی اے اے کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ میں 29 مارچ تک گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی ہے جس کے پیش نظر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام متعلقہ حکام اور آپریشنل اسٹاف الرٹ رہیں۔</p>
<p>پی اے اے نے بڑے حادثے سے بچنے کے لیے رن وے فریکشن چیک کرنے اور نکاسی آب کے راستے صاف رکھنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے پرندوں اور کیڑے مکوڑوں سے نمٹنے کے لیے برڈ شوٹرز کی تعیناتی اور فیومیگیشن کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل محکمہ موسمیات نے سندھ میں بارش برسانے والے نئے سسٹم کے حوالے سے الرٹ جاری کیا تھا، جس کے مطابق 29 مارچ تک صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ کے کئی شہروں میں وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کراچی میں آج بھی کہیں کہیں ہلکی بارش اور بوندا باندی متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر گرج چمک اور تیز ہوائیں چلنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 27 مارچ کو موسم میں عارضی وقفہ آئے گا، تاہم 28 اور 29 مارچ کو دوبارہ بارشوں کا امکان ہے۔شہر کا درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جائے گا۔اس وقت ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ہے اور 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گل پلازہ سانحہ، ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3310/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2026 09:18:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3310</guid>

					<description><![CDATA[🚨گل پلازہ سانحہ، ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر کراچی: سینئر فائر آفیسر ظفر خان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے بعد ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں۔ ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گل پلازہ کے تہ خانے میں ایک [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img src="https://s.w.org/images/core/emoji/17.0.2/72x72/1f6a8.png" alt="🚨" class="wp-smiley" style="height: 1em; max-height: 1em;" />گل پلازہ سانحہ، ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر</p>
<p>کراچی: سینئر فائر آفیسر ظفر خان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے بعد ملبے سے  لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں۔</p>
<p> ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ  گل پلازہ کے تہ خانے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی جسے بجھا دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عمارت کی چھت سے ڈیزل ٹینک نہیں اتارا گیا تھا، ڈیزل ٹینک اتارنے کے دوران اس میں آگ لگی جسے بھجادیا گیا۔</p>
<p>ظفر خان نے کہا کہ عمارت کا اسٹرکچر کمزور ہوگیا ہے،اب صرف سرچنگ کا عمل رہ گیا ہے۔</p>
<p>ڈپٹی کمشنرساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سرچ آپریشن آخری مراحل میں ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آپریشن آج مکمل ہوجائےگا، ایس بی سی اے کی نگرانی میں کام ہورہا ہے، کوشش ہے کہ جلد از جلد اسے مکمل کرلیں</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے، جس پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر پاکستانی افسردہ ہے۔ یہ غم صرف لواحقین کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے اور جس کرب سے متاثرہ خاندان گزر رہے ہیں اس تکلیف کی گھڑی میں حکومت سندھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3299/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2026 05:40:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3299</guid>

					<description><![CDATA[سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے، جس پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر پاکستانی افسردہ ہے۔ یہ غم صرف لواحقین کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے اور جس کرب سے متاثرہ خاندان گزر رہے ہیں اس تکلیف کی گھڑی میں [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے، جس پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر پاکستانی افسردہ ہے۔ یہ غم صرف لواحقین کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے اور جس کرب سے متاثرہ خاندان گزر رہے ہیں اس تکلیف کی گھڑی میں حکومت سندھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔<br />
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن  نے کہا کہ سانحے کے پہلے روز سے حکومت سندھ ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے کہ ملبے میں موجود تمام میتوں کو نکالا جائے، ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں، حکومت کو 86 لاپتہ افراد کی معلومات موصول ہو چکی ہیں جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے اور انتظامیہ شب و روز کام کر رہی ہے۔<br />
انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے اور سندھ حکومت 1200 دکانداروں کے نقصان کا ازالہ کرے گی، ماضی میں ٹمبر مارکیٹ میں آگ لگنے اور عاشورہ کے موقع پر بولٹن مارکیٹ جلنے کے واقعات میں بھی حکومت سندھ نے چیمبر آف کامرس کے ذریعے نقصان کا تخمینہ لگوا کر متاثرہ دکانداروں کو معاوضہ دیا تھا اور اس بار بھی ایک منظم میکنزم کے تحت دیانتداری سے ازالہ کیا جائے گا۔<br />
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی مول نہیں ہوتا، حکومت چاہتی ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں، فائر فائٹنگ کے دوران ایک فائر فائٹر شہید ہوا ہے اور حکومت اس کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔<br />
انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری 2024 کو آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں تمام دکانوں کو نوٹس بھیجے گئے تھے اور اس وقت نگران وزیر اعلیٰ تھے۔<br />
انہوں نے کہا کہ اس آتشزدگی کی شفاف انکوائری کے لیے ایک کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا ہے جو آگ کی وجوہات، ریسکیو میں کوتاہی اور دیگر محرکات کا جائزہ لے گی، ہم سب کمیٹی کی رپورٹ کے منتظر ہیں۔<br />
شرجیل انعام میمن کے مطابق چیمبر آف کامرس کے وفد نے وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی ہے اور تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی یقینی بنانے کی تائید کی ہے، تاہم پورے پاکستان میں اندازاً نوے فیصد عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام موجود نہیں اور ایس او پیز پر عملدرآمد کراتے وقت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔<br />
انہوں نے کہا کہ ایک جماعت نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیا اس سے ایسے واقعات نہیں ہوں گے، یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے لوگوں کو زندہ جلایا، سانحہ عاشورہ میں بولٹن مارکیٹ کو آگ آپ نے لگائی اور مداوا حکومت نے کیا، آج بھی لواحقین لاشوں کے منتظر ہیں اور آپ سیاست کر رہے ہیں۔<br />
انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو لوگوں کو چن چن کر مارا گیا، بندوقوں کا نشانہ بنایا گیا اور آج بھی اس سانحے پر پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، حالانکہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور گل پلازہ میں ہر طبقے کا انسان شاپنگ کے لیے آتا تھا۔<br />
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مصطفیٰ کمال کی پرانی ویڈیوز بھی پیش کیں اور کہا کہ جب وہ میئر کراچی تھے تو ان کا لب و لہجہ کچھ اور تھا، وہ ماضی میں اپنے قائد کے لیے لڑتے تھے اور اب اسی قائد کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، یہ لوگ اپنے قائد بدلتے رہتے ہیں، مصطفیٰ کمال کی ہر بات کا میرے پاس منہ توڑ جواب ہے، وہ وفاقی وزیر صحت ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ وہ گل پلازہ کتنی بار گئے ہیں۔<br />
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ آپ کے قائد کی ہڑتالوں میں یومیہ سو لوگ مارے جاتے تھے، اس وقت ضمیر کیوں نہیں جاگا، انسانیت کیوں یاد نہیں آئی، ہماری ترجیح یہ ہے کہ پہلے لواحقین کو لاشیں دی جائیں، اس کے بعد آزادانہ انکوائری ہو اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔<br />
اٹھارویں ترمیم کے خلاف خواجہ آصف اور مصطفیٰ کمال کے بیانات پر سوال کے جواب میں کہا کہ اگر مخالفت ہے تو اسمبلی میں جائیں، ٹی وی پر ڈھنڈورا پیٹنے کا فائدہ نہیں۔<br />
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بڑا دل رکھا، سب کو معاف کیا اور موقع دیا، 2008 سے 2013 تک کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا، ہم نے ہر دور میں جیلیں کاٹی ہیں اور صدر پاکستان کا نائن زیرو جانا -صرف انتشار کی سیاست کے خاتمے کے لیے تھا۔<br />
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی فرانزک انکوائری اور تخریب کاری کے عنصر کی تفتیش جاری ہے، رپورٹ آنے دیں، اگر میرا بھی نام آیا تو میں بھی نہیں بخشا جاؤنگا ۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: کراچی کے علاقے گلشن معمار میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اغوا میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں ایک بااثر شخص کو گرفتار کر لیا گیا، اے آر وائی نیوز نے بدھ کو رپورٹ کیا۔</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3288/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Jan 2026 09:28:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3288</guid>

					<description><![CDATA[کراچی: کراچی کے علاقے گلشن معمار میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اغوا میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں ایک بااثر شخص کو گرفتار کر لیا گیا، اے آر وائی نیوز نے بدھ کو رپورٹ کیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون گھریلو صفائی کا کام کرتی ہے۔ اس [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی: کراچی کے علاقے گلشن معمار میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اغوا میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں ایک بااثر شخص کو گرفتار کر لیا گیا، اے آر وائی نیوز نے بدھ کو رپورٹ کیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون گھریلو صفائی کا کام کرتی ہے۔ اس نے بتایا کہ تین افراد نے اسے اس وقت اغوا کیا جب وہ گھر میں کام کر رہی تھی، اسے کار میں ایک ویران علاقے میں لے گئے، اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ اس نے ایک ملزم کی شناخت سردار شہائی کے نام سے کی اور کہا کہ اسے ہتھیاروں کے زور پر جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔</p>
<p>متاثرہ کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کو تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر گلشن معمار کے ایس ایچ او کو معطل اور تنزلی کا حکم دیا ہے۔ آئی جی نے ایس ایس پی ویسٹ کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے اور ملوث تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔</p>
<p>متاثرہ خاندان نے پی پی پی رہنما شاہدہ رحمانی سے رابطہ کیا، جنہوں نے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، فریال تالپور اور ڈی آئی جی سے پولیس کی مبینہ غفلت کو اجاگر کرنے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا 21 رجب المرجب، یومِ ولادت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے موقع پر پیغام</title>
		<link>https://dailyibrat.com/news/3276/</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Syed Iftikhar]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Jan 2026 06:35:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailyibrat.com/news/?p=3276</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا 21 رجب المرجب، یومِ ولادت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے موقع پر پیغام حضرت لعل شہباز قلندرؒ صوفیانہ فکر، عشقِ الٰہی اور انسان دوستی کی علامت ہیں، وزیراعلیٰ سندھ حضرت لعل شہباز قلندرؒ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ اور انسانیت کے علمبردار تھے،سید مراد علی شاہ حضرت لعل [&#8230;]]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا 21 رجب المرجب، یومِ ولادت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے موقع پر پیغام</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ صوفیانہ فکر، عشقِ الٰہی اور انسان دوستی کی علامت ہیں، وزیراعلیٰ سندھ</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ اور انسانیت کے علمبردار تھے،سید مراد علی شاہ</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا پیغام محبت، امن اور رواداری ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ</p>
<p>لعل شہباز قلندرؒ کی تعلیمات اتحاد، بھائی چارے اور انسانیت کا درس دیتی ہیں، سید مراد علی شاہ</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ علم، عرفان اور روحانیت کا روشن مینار تھے، وزیراعلیٰ سندھ</p>
<p>لعل شہباز قلندرؒ نے اپنے کردار سے ظلم، نفرت اور تعصب کے خلاف آواز بلند کی، مراد علی شاہ</p>
<p>وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ولادت لعل شہباز قلندرؒ کے موقع پر سندھ میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا فیض آج بھی دلوں کو جوڑ رہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ</p>
<p>سندھ اولیاء کی دھرتی ہے جہاں انسانیت سب سے بڑی عبادت ہے، سید مراد علی شاہ</p>
<p>لعل شہباز قلندرؒ بلا تفریق مذہب و نسل انسانیت سے محبت کا درس دیتے تھے، وزیراعلیٰ سندھ</p>
<p>سندھ دھرتی میں امن، محبت اور رواداری صدیوں سے زندہ ہیں، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ</p>
<p>سندھ کی تاریخ اولیاء کرام کے پیغام امن اور باہمی احترام کی امین ہے، سید مراد علی شاہ</p>
<p>سندھ ہمیشہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی علامت رہا ہے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا پیغام سندھ کی روح، ثقافت اور شناخت کا لازمی حصہ ہے، سید مراد علی شاہ</p>
<p>حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ آج بھی امن، امید اور محبت کا مرکز ہے، وزیراعلیٰ سندھ</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
