تفصیلات کے مطابق پشاور میں صدر کے علاقے میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے قریب 2 دھماکے ہوئے۔
پولیس نے بتایا کہ دھماکے ہیڈ کوارٹرز کے گیٹ کے قریب ہوئے، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملہ ہوا
سی سی پی او پشاور نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 8 بجکر11 منٹ پر ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خود.کش حملہ ہوا، ایک نے خود کو اڑایا، 2 خود.کش حملہ آوروں نےہیڈکوارٹرمیں گھسنےکی کوشش کی، ایف سی کےجوانوں نے دونوں دہشت گردوں کو گیٹ پر ہی ہلاک کردیا جبکہ حملے میں ایف سی کے 3 جوان شہید ہوئے.
ان کا کہنا تھا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرزکوکلیئرکردیاگیاہے ، صوبے کی جوصورتحال ہے، پہلے سے ہی ہائی الرٹ تھے تاہم سی سی ڈی کے افسران شواہد جمع کررہے ہیں۔
دہشت گرد ایف سی ہیڈکوارٹرزمیں داخل ہو جاتے تو بڑا نقصان ہو سکتا تھا
دوسری جانب آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرزپرخود۔کش حملہ ہوا تاہم جوانوں نے حملے کو ناکام بنادیا ہے۔
ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ ایک خود۔کش حملہ آور نے خود کو ایف سی ہیڈکوارٹرزکے گیٹ پر اڑایا، جبکہ 2 دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ایف سی جوانوں نے دونوں دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی جی کے پی نے کہا مقابلے کے دوران ایف سی کے 2 جوان شہید اور 2 زخمی ہوئے ہیں، زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سخت سیکیورٹی انتظامات کے باعث دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنایا گیا ، دہشت گرد ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہو جاتے تو بڑا نقصان ہو سکتا تھا تاہم ایف سی ہیڈکوارٹرز میں کلیئرنس آپریشن ابھی چل رہا ہے اور ہیڈ کوارٹرز کے سامنے والے روڈ کو ٹریفک کیلئے بندکردیاگیا ہے۔








