ترمیم کے ذریعے "فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ” کے قیام کی تجویز
سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی "وفاقی آئینی عدالت” قائم کرنے کی شق
وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد ہوگا
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر
وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے
آئینی عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے کا اختیار
آئینی عدالت کو آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کا دائرہ اختیار
آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز
آرٹیکل 175 میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی ترمیم
سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات محدود، نئی عدالت کو منتقل
آرٹیکل 175A میں ججز تقرری کے لیے نیا طریقہ کار تجویز
جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس شامل
وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے
آرٹیکل 189 میں ترامیم، آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم
سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو، دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس بطور ارکان
آرٹیکل 243 میں ترامیم — چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
آرمی چیف کو "چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ دیا گیا
”فیلڈ مارشل” کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز
آرٹیکل 93 میں ترمیم، وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار
آرٹیکل 130 میں ترمیم، وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ
آرٹیکل 206 میں ترمیم، سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار پر جج ریٹائر تصور
آرٹیکل 209 میں ترمیم، سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں بنانے کی شرط
آرٹیکل 175B سے 175L تک نیا باب شامل — وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات و طریقہ کار
آرٹیکل 176 تا 183 میں ترامیم، سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات کی تبدیلی
آرٹیکل 186 اور 191A حذف کرنے کی تجویز
آئینی عدالت کا ایڈوائزری دائرہ کار بھی متعین کیا جائے گا۔









